بھٹکل 5/مئی (ایس او نیوز) بھٹکل میں آج صبح ایک 18 سالہ لڑکی کی رپورٹ کورونا پوزیٹو موصول ہونے کےبعد اس بات کا پتہ لگایا جارہا ہے کہ آخر اس لڑکی تک یہ مرض کیسے اور کہاں سے پہنچا ؟ حالانکہ یہ لڑکی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی ۔
ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ لڑکی کی بڑی بہن 19 اپریل (تاریخ اوپر نیچے ہوسکتی ہے) کو مینگلور میں اپنی بچی کے علاج کے سلسلے میں ایک پرائیویٹ اسپتال گئی تھی، اس کے ساتھ اس کاشوہر بھی تھا۔ پتہ چلا ہے کہ اُس اسپتال کے دو مریضوں میں کورونا کے اثرات پائے گئے تھے جس میں سے ایک خاتون کی 23اپریل کو موت بھی ہوچکی ہے، بتایا گیا ہے کہ متعلقہ اسپتال کا ڈاکٹر بھی بعد میں کورونا پوزیٹو پایا گیا تھا جس کے بعد پورے اسپتال سے قریب 200 اسٹاف کو کورنٹائن کرتے ہوئے اسپتال کو بند کردیا گیا ہے۔
شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مینگلور اسپتال سے ہی کورونا ان کے گھر پہنچا ہوگا، اگر ایسا ہوا ہے تو پھر بھٹکل میں کورونا کے مزید معاملات پیش آنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
ذرائع کی مانیں تو جس لڑکی کی رپورٹ کورونا پوزییٹو آئی ہے وہ اپنی بڑی بہن، نانا ، نانی اورخالہ کےساتھ گھر پر رہتی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ان تمام لوگوں کے سیمپل جانچ کے لئے حاصل کئے گئے ہیں اور ان سب کا کورنٹائن کیا گیا ہے۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ لڑکی کو بخار اور کھانسی کی بنا پر یکم مئی کو جب سرکاری اسپتال میں علاج کے لئے لایا گیا تھا تو اُس وقت جو جو اسٹاف اس کے رابطے میں آئے تھے تمام کے سیمپل لئے گئے ہیں اور سبھوں کو کورنٹائن کیا گیا ہے۔
زچگی اور او پی ڈی شرالی منتقل: بھٹکل میں کورونا کا تازہ معاملہ سامنے آتے ہی بھٹکل سرکاری اسپتال کے تمام زچگی کے معاملات واپس شرالی سرکاری اسپتال منتقل کردئے گئے ہیں، عام مریضوں کا علاج اور جانچ بھی اب شرالی سرکاری اسپتال میں ہوگا۔ اس طرح بھٹکل تعلقہ سرکاری اسپتال کو پھر ایک بار کورونا کے مریضوں کے لئے مخصوص کیا گیا ہے۔
بنگلور اور میسور سے بھٹکل آنے والوں کا سلسلہ جاری؛ لاک ڈاون ٹو، اختتام کو پہنچتے ہی بنگلور، میسور اور کیرالہ وغیرہ میں پھنسے ہوئے بھٹکلی لوگ واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ کل پیر کو بھی کافی لوگ الگ الگ بسوں ذریعے بذریعہ ہوناور اور مرڈیشور بھٹکل پہنچے ہیں، جبکہ بعض لوگ اپنی پرائیویٹ کاروں میں بھی بھٹکل آئے ہیں۔ اسی طرح آج منگل صبح بھی ایک بس میسور سے بھٹکل پہنچنے کی خبر ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ تمام لوگوں کے ہاتھوں میں کورنٹائن کا اسٹامپ لگانے کے ساتھ ساتھ اکثر کو گھروں میں ہی کورنٹائن ہونے کی ہدایت دی گئی ہے مگر بعض لوگوں کو اسپتال میں بھی کورنٹائن کئے جانے کی خبر ہے۔